ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستانی معیشت کے لیے 21-2020 ’انتہائی تاریک‘ سال: پی چدمبرم

ہندوستانی معیشت کے لیے 21-2020 ’انتہائی تاریک‘ سال: پی چدمبرم

Wed, 02 Jun 2021 11:46:49    S.O. News Service

نئی دہلی، 2؍ جون(ایس او نیوز؍ایجنسی)سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ہندوستانی معیشت کی بدحالی کے لیے مودی حکومت کو پُرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یکم جون کو جاری ایک پریس بیان میں انھوں نے سال 2020-21کے دوران معیشت میں 7.3 فیصد کی گراوٹ پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2021-22میں ایسی حالت سے بچنا ہے تو حکومت کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں اور ماہرین معیشت کے مشورے پر غور کرنا چاہیے۔

سابق مرکزی وزیر مالیات نے معیشت کے لحاظ سے 2020-21کو گزشتہ چار دہائی کا سب سے تاریک سال قرار دیا اور ساتھ ہی کہا کہ کورونا وبا کے ساتھ ہی حکومت کے ناتجربہ کار اور نااہل معاشی مینجمنٹ سے حالات مزید بگڑ گئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جس کا اندازہ لگایا جا رہا تھا وہی ہوا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران معیشت میں 7.3 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔

چدمبرم نے گزشتہ سالوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2018-19میں جی ڈی پی 14003316 کروڑ روپے تھی، 2019-20 میں یہ 14569268کروڑ روپے تھی اور 2020-21میں یہ گھٹ کر 13512740کروڑ روپے ہو گئی۔ یہ ملک کی معاشی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال جب کورونا وبا کی پہلی لہر دھیمی پڑتی نظر آئی تو وزیر مالیات اور چیف معاشی مشیر معیشت کے پٹری پر آنے کی باتیں کرنے لگے۔ ہم نے کہا تھا کہ معیشت کو بڑھانے کے لیے پیکیج کی مضبوط مدد چاہیے۔ فکر انگیز بات یہ ہے کہ فی کس جی ڈی پی ایک لاکھ روپے سے نیچے چلا گیا ہے۔

چدمبرم نے الزام عائد کیا کہ یقینی طور پر کورونا وبا کا معیشت پر زبردست اثر پڑا ہے، لیکن نااہل معاشی مینجمنٹ نے معیشت کی حالت کو بری طرح بگاڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر چل رہی ہے۔ اس میں پہلی لہر کے مقابلے میں انفیکشن اور اموات کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر 2020-21 کی طرح سال 2021-22کو نہیں ہونے دینا ہے تو حکومت کو بیدار ہونا چاہیے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، اپنی پالیسیاں بدلنی چاہئیں اور اپوزیشن و ماہرین معیشت کے مشوروں پر عمل کرنا چاہئے۔


Share: